مجھے دل سے اک شکایت ہے کہ۔۔۔۔

ریاکاری کی مٹی میں سُکوں کا گُل نہیں کِھلتا

پرائے در سے جتنے گھاؤ مل جائیں
سمے کی مہربانی سے بالآخر بھر ہی جاتے ہیں
ترے ہاتھوں کا بخشا زخم ہیئت میں، مگر، کچھ مختلف ہے
وقت کا دھارا بہے جاتا ہے لیکن، 
یہ نہیں سِلتا 

مجھے دل سے شکایت ہے
وہاں لے جا کے مجھ کو مارتا ہے 
جس جگہ پانی نہیں ملتا



Comments